| کوڈ: 197132 | تاریخ: 2010/07/27 | مآخذ: ابنا | print |
یمنی صدر شیعہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے
|

واضح رہے کے ایک ہفتہ میں شیعہ حوثی مجاہدین اور یمنی افواج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران کم سے کم 70افراد جاں بحق اور کئی ا فراد زخمی ہوچکے ہیں۔
یمنی صدر علی عبداللہ ا لصالح نے مزید کہا کے ہم شیعہ حوثی مجاہدین سے مزید جنگ نہیں چاہتے ۔واضح رہے کے انہوں نے یہ بات جنگی افہام و تفہیم کے بعد کہی ہے جبکہ دونوں گروہوں شیعہ حوثی مجاہدین اور یمنی افواج کے درمیان جنگ بندی کا عمل یمنی افواج کی جانب سے شیعہ علاقہ پر راکٹ داغنے کے بعد متاثر ہوا تھا جسکے نتیجہ میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران دو ہفتوں کے دوران ابتک 70افراد جان بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ۔
جبکہ یمنی صدر علی عبداللہ الصالح کا کہنا ہے کہ ملک کے امن اور استحکام کو تباہ ہونے سے بچایا جائے گا۔
بشکریہ از شیعیت نیوز
........
یمنی صدر سعودی حکمرانوں کے زیر اثر ہیں اور ان کی باتوں کا اعتبار تب ہی ممکن ہوگا جب یمن میں واقعی امن بحال ہوجائے اور قبائل کو مسلح کرکے انہیں اہل تشیع کے خلاف مشتعل کرنے کی پالیسی ترک کی جائے، شمالی علاقوں میں مستضعف اہل تشیع کے حقوق کی بحالی کی عملی ضمانت فراہم کی جائے اور گھات لگاکر یا راکٹ فائر کرکے اہل تشیع کے قتل کا سلسلہ بند کیا جائے۔
لنکس کا مجموعہ:
| Share : | Del.icio.us |
Digg |
Facebook |
Newsvine |
Reddit |
Technorati |